ڈپٹی نذیر احمد - فہمیدہ اور منجھلی بیٹی حمیدہ کی گفتگو
BSEB Class 10 Urdu - Objective Practice Set- 12
ڈپٹی نذیر احمد کی پیدائش ١٨٣٦ء میں ہوئی۔ وہ اردو کے پہلے ناول نگار تھے۔
ان کی پیدائش ضلع بجنور کے افضل گڑھ میں ہوئی۔
ان کے والد کا نام سعادت علی تھا۔
یہ تینوں مشہور ناول ڈپٹی نذیر احمد کی تصنیفات ہیں۔ یہ اردو ادب کے اہم ناول ہیں۔
یہ اقتباس 'توبتہ النصوح' ناول سے ماخوذ ہے۔ یہ ناول اصلاح اخلاق کے موضوع پر لکھا گیا ہے۔
نذیر احمد نے خاص طور پر بیٹیوں اور عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ناول لکھے۔ وہ خواتین کی تعلیم کے حامی تھے۔
ڈپٹی نذیر احمد کا انتقال ١٩١٠ء میں ہوا۔
فہمیدہ نصوح کی بیوی ہیں اور حمیدہ ان کی منجھلی بیٹی ہیں۔
یہ کردار 'توبتہ النصوح' ناول سے ہیں۔ نصوح ناول کا مرکزی کردار ہے۔
'توبتہ النصوح' ڈپٹی نذیر احمد کا مشہور ناول ہے جو توبہ اور اصلاح کے موضوع پر ہے۔
نصاب میں شامل اقتباس 'توبتہ النصوح' سے ماخوذ ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد کا تعلق ناول نگاری سے تھا۔ وہ اردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔
انہوں نے ٹیمپل صاحب کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں ملازمت شروع کی۔
انہوں نے ٤٠ روپیہ ماہوار پر ملازمت اختیار کی۔
ان کا تبادلہ کانپور میں ڈپٹی انسپکٹر کے عہدے پر ہوا۔ اسی لیے انہیں 'ڈپٹی نذیر احمد' کہا جاتا ہے۔
اس ناول میں مرکزی کردار نصوح ہے۔ ناول کا نام بھی اسی کردار کی توبہ پر رکھا گیا ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد کو اردو کا پہلا ناول نگار مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو ناول کو فروغ دیا۔
