عارف کی موت پر - مرزا غالب (مرثیہ)
BSEB Class 10 Urdu - Objective Practice Set - 22
غالب کا پورا نام مرزا اسد اللہ خان غالب ہے۔ وہ اردو اور فارسی کے عظیم شاعر تھے۔
غالب نے شاعری کی ابتدا میں 'اسد' تخلص استعمال کیا۔ بعد میں 'غالب' تخلص اختیار کیا۔
مرزا غالب کی پیدائش ١٧٩٧ء میں آگرہ میں ہوئی۔
غالب کے اجداد ایران (فارس) سے ہندوستان آئے تھے۔
مرزا غالب کا انتقال ١٨٦٩ء میں دہلی میں ہوا۔
'عارف کی موت پر' ایک مرثیہ ہے۔ مرثیہ میں مرنے والے کی یاد اور اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔
غالب کے والد کا نام عبد اللہ بیگ تھا۔
والد کی وفات کے بعد غالب کی پرورش چچا نصر اللہ بیگ کی نگرانی میں ہوئی۔
غالب کے والد عبد اللہ بیگ خان نواب آصف الدولہ کے زمانے میں لکھنؤ آئے۔
غالب کے والد کی وفات جب غالب صرف ٥ سال کے تھے۔
'مرثیہ' عربی لفظ 'رثاء' سے ماخوذ ہے جس کا مطلب 'مردے پر رونا' ہے۔
مرنے والے کی یاد اور اوصاف بیان کرنے والی نظم کو 'مرثیہ' کہتے ہیں۔
مغلیہ دربار سے مرزا غالب کو 'دبیر الملک' کا خطاب ملا۔
مرزا غالب کا لقب 'مرزا نوشہ' تھا۔
واقعہ کربلا کے علاوہ کسی فرد پر لکھے گئے مرثیے کو 'شخصی مرثیہ' کہتے ہیں۔
